واٹس ایپ نے صارفین کیلئے نیا آڈیو فیچر متعارف کرادیا

سماجی رابطے کیلئے استعمال ہونیوالی دنیا کی مقبول ترین موبائل ایپلی کیشن واٹس ایپ نے صارفین کیلئے نیا…

فیس بک پر چھوٹی خبریں پھیلانے والے ہوشیار ہوجائیں

فیس بُک نے جھوٹی خبریں اور معلومات پھیلانے والے اکاؤنٹس، پیجز اور گروپس کو ”آن لائن…

فیس بک کاپاکستان میں سرمایہ کاری کافیصلہ

نیا ٹیل فیس بک سرمایہ کاری سے 8 بڑے شہروں میں 2 سال میں نیا فائبر…

کل سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر آئے گا

ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سربراہ پروفیسر جاوید اقبال نے کہا ہے کہ کل…

سبزیوں اور پھلوں کے کچرے سے مضبوط کنکریٹ تیار

تفصیلات کے مطابق، یونیورسٹی آف ٹوکیو کے پروفیسر ڈاکٹر یووا ساکائی اور ان کے ساتھیوں نے…

اس سال سپر مون اور ’خونی چاند گرہن‘ ایک ساتھ ہوں گے!

کراچی: دو دن بعد ایک منفرد چاند گرہن ہمارا منتظر ہے کیونکہ اس وقت نہ صرف یہ…

گوگل سرچ میں نیا ٹول شامل کرنے کا اعلان

دنیا بھر میں مقبول ترین سرچ انجن گوگل نے جِلد، بالوں اور ناخنوں کی صحت جاننے…

China postpones launch of rocket carrying space station supplies

China has postponed the planned launch Thursday of a rocket carrying supplies for its new space station due to technical reasons, state media said. The China…

کرہ ارض پر پرندوں کی تعداد 50 ارب، لیکن چار انواع سرِفہرست

ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت کرہ ارض پر آزاد اور غیرپالتو پرندوں کی تعداد…

عالمی ادارہ صحت کی تحقیق: زیادہ دیر تک کام کرنا موت کی وجہ بن سکتا ہے

عالمی سطح پر اپنی نوعیت کی ایک پہلی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سنہ 2016 میں طویل دفتری اوقات کے باعث 745000 افراد دل کے دورہ پڑنے یا فالج ہونے سے ہلاک ہوئے تھے۔

تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ہفتے میں 55 گھنٹے یا اس سے زیادہ کام کرنے والے لوگوں میں فالج کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں اور دل کی بیماری کی وجہ سے موت واقع ہونے کی شرح 40-35 گھنٹے کام کرنے والوں کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہوتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن( ڈبلیو ایچ او) کی ایک نئی تحقیق کے مطابق سالانہ کام کرنے کے طویل اوقعات کے باعث لاکھوں افراد کی ہلاکت ہو رہی ہے۔

یہ تحقیق مزدوروں کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے ساتھ مل کر کی گئی۔ اس سے مزید یہ پتا چلا کہ طویل اوقات کی وجہ سے اموات میں تین تہائی تعداد ان افراد کی تھی جو درمیانی عمر کے یا بڑی عمر کے تھے۔